7 نومبر 2026 - 16:56
ایران کے معاملے پر ڈیموکریٹس کا ٹرمپ سے قبل از وقت ٹکراؤ

خبر رساں ادارے پولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ ڈیموکریٹک نمائندوں کا ارادہ ہے کہ وہ نئی کانگریس کے قیام سے بھی پہلے ایران کے خلاف جنگ کو روکنے کے لئے ٹرمپ کے ساتھ ٹکراؤ میں آئیں گے، اور بجٹ کمیٹی اس سلسلے میں ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کا ان کا پہلا ہدف ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی جنوری سے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے والی ہے، لیکن ممکن ہے کہ نئی اکثریت کے باقاعدہ طور پر کام شروع کرنے سے بھی پہلے وہ ایران کے خلاف جنگ کو روکنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹکراؤ میں آ جائے۔

جنگ کی فنڈنگ روکنا ترجیح

پولیٹیکو نیوز ویب سائٹ نے لکھا کہ کچھ ڈیموکریٹک قانون ساز، وفاقی حکومت کی فنڈنگ کی تجدید کے لئے 11 دسمبر کی آخری تاریخ کے قریب آتے ہی، اس موقع کو ایران کی جنگ کے لئے مالی وسائل مختص کرنے کا راستہ روکنے کے لئے استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے پاس وفاقی حکومت کی فنڈنگ کی تجدید کے لئے 11 دسمبر تک کا وقت ہے؛ ورنہ تعطل حکومت (Government shutdowns) کا امکان ہے۔

یہ آخری تاریخ اس سے صرف چند ہفتے پہلے آ رہی ہے جب ریپبلکن ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت کھو دیں گے۔

تمام ڈیموکریٹک امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم میں ایران کی جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور اب ان میں سے کچھ کا خیال ہے کہ سال کے آخر میں حکومت کی فنڈنگ کے لئے کسی بھی معاہدے میں اس جنگ کے لئے وفاقی مالی وسائل مختص کرنے پر پابندی شامل ہونی چاہئے۔

ریاست کنیکٹیکٹ (Connecticut) سے ڈیموکریٹک نمائندہ اور ایوان نمائندگان کی تخصیص کمیٹی کی سینئر سربراہ روزا ڈیلاورو نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا: "ڈیموکریٹس قطعاً اجازت نہیں دیں گے کہ ٹرمپ کی ایران کے خلاف اختیاری جنگ کو فنڈ فراہم کیا جائے؛ ایسی جنگ جس نے امریکی خاندانوں کے اخراجات بڑھائے اور ان کی سلامتی کم کی ہے۔"

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما حکیم جیفریز (Hakeem Jeffries)، جو اگلے سال اس ایوان کی صدارت سنبھالیں گے، نے بھی اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہنگی اور لاپروائی پر مبنی جنگ کے بارے میں روزا ڈی لاورو (Rosa DeLauro) سے بات کریں گے۔

انھوں نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام حکومت کی جوابدہی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی دوران، کچھ نامور ڈیموکریٹک شخصیات جن کی 2028 کے صدارتی انتخابات میں امیدواری کا امکان ہے، نے مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی ٹرمپ حکومت کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرے۔

کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک نمائندہ رو کھانا (Ro Khanna) نے، اس بات پر زور دیا کہ ایران کی جنگ انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی وجہ تھی، چنانچہ اس تنازع کو ویتنام کی جنگ کے خاتمے کی طرح ختم ہونا چاہئے۔

 انھوں نے ڈیموکریٹس سے مطالبہ کیا کہ دسمبر کے عبوری بجٹ معاہدے میں ایران میں امریکی فوج کی جنگی کارروائیوں کی کسی بھی قسم کی فنڈنگ پر پابندی لگائیں۔

ریاست الینوے (Illinois) کے ڈیموکریٹ گورنر جے بی پریٹزکر (JB Pritzker) نے بھی اس نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کو ریپبلکن کے سامنے جھکنا نہیں چاہئے اور ایران کی جنگ کی فنڈنگ روکنے کے لئے فیصلہ کن موقف اختیار کرنا چاہئے۔

سینیٹ کے اگلے سربراہ چک شومر (Chuck Schumer) نے اعلان کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی سینئر بجٹ تخصیص اہلکار پیٹی مرے (Patty Murray) کے ساتھ مل کر تعطل حکومت کی آخری تاریخ سے پہلے حکومت کی فنڈنگ کے بارے میں معاہدے تک پہنچنے کے لئے تعاون کریں گے۔

مرے نے بھی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے اپنے ووٹ سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ڈیموکریٹس اس تنازع کے خاتمے کے لئے اپنے اختیار میں موجود تمام ذرائع استعمال کریں گے۔

شومر نے بھی بجٹ کی منظوری اور تخصیص میں کانگریس کے اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ یہ ذریعہ ایسے صدر کو قابو کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جو عوام کی رضامندی کے بغیر جنگ میں داخل ہوتا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ جنگ ختم ہو گی۔

تاہم، ٹرمپ کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے 11 دسمبر کی آخری تاریخ کا استعمال گورنمنٹ شٹ ڈاؤن، اور اس بحران کو نئے سال میں منتقل ہونے کے خطرے کا حامل ہے؛ ایسا واقعہ جو کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کے دیگر منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

کچھ ڈیموکریٹک قانون سازوں کا یہ بھی خیال ہے کہ فنڈنگ مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے، جنگ کو بتدریج اور منظم طریقے سے ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha